صبر اور سپردگی ...
میں نے سنا ہے کہ جب کوئی انسان کسی ڈوبتے انسان کو بچانے کی کوشش کرتا ہے تو پہلے اسے ایک مکا یا تھپڑ مارتا ہے پھر اسے بچاتا ہے ورنہ ڈوبنے والا بچانے والے کو بھی لے ڈوبتا ہے ..کہنے کو یہ بات تھوڑی عجیب لگی لیکن غور سے سننے پر معلوم ہوا ..اگر آپکا اتفاق کبھی انڈس ریور پر جانے کا ہو تو وہاں پر دریا کی سیر کرتے ہوۓ کشتی والا آدمی سواروں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اگر کشتی بے قابو ہو جاۓ اور آپ ڈوبنے لگو تو ہمیں پکڑنا مت ...باقی ہم تمہیں بچا لیں گے ...وجہ اسکی یہ بتاتے ہیں کہ ڈوبتا ہوا انسان بے حد جلدباز اور بے صبرا ہو جاتا ہے ....اور بے صبری میں وہ ہاتھ پاؤں اتنی زور سے مارتا ہے کہ بچانے والے کو بھی سمجھ نہیں آتی کہ اسے کیسے پکڑوں یہ تو بچانے ہی نہیں دے رہا ...یوں وہ خود ہاتھ پاؤں چلاکر نکلنے کی کوشش کرتا رہتا ہے اور بچانے والے بندے پر بھروسہ نہیں کر پاتا ....حضور والا آپ کو نہیں لگتا کہ ہم اپنی زندگی کی کسی بھی مشکل یا مصیبت میں با لکل اسی ڈوبتے ہوۓ انسان کی طرح جب پھنس جاتے ہیں تو نکلنے کے لیے گلہ اور شکوہ کرتے ہیں ، غصہ کرتے ہیں ...بے صبرے ہو جاتے ہیں ....ہمارے گلے کے ہاتھ اور شکوے کے پاؤں ہی اتنے زیادہ چل رہے ہوتے ہیں کہ ہم خود کو مکمل طور پر بچانے والے (الله ) کے حوالے نہیں کر پاتے ...خود کو اسکے سپرد نہیں کر پاتے ...اور خود ہی ہاتھ پاؤں مارتے رہتے ہیں ...خود ہی نکلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ....حالانکہ یہ بات اٹل ہے کہ الله صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ...لیکن سپردگی شرط ہے ...حوالگی فرض ہے ...تب جا کر ہم الله سے یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمیں بچائے ....الله سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سپردگی والا صبر کرنے کی توفیق دے جس میں بچانے والے پر فرض ہو جاۓ کہ وہ ہمیں بچاۓ ..نہ کہ ہم خود تیس مار خان بنتے رہیں اور غصے سے ہاتھ پاؤں مارتے رہیں ..جزاک الله ..واللہ عالم
(کاشف شہزاد )
