سوچ کی تبدیلی

  
 
جب میں نے قاسم علی شاہ صاحب کو نیا نیا سننا شروع کیا تو حالت چونکہ میری بدل رہی تھی ...لوگوں کی نہیں ....بلکہ لوگ مجھے بھی اسی پرانے مائنڈ سیٹ کے لحاظ سے دیکھتے تھے ..اسکا اظہار وہ اس وقت کرتے تھے جب میں اپنی کوئی دانش جھاڑنے کی کوشش کرتا یا پھر انکے سامنے شاہ صاحب کی تعریف کیا کرتا اور ان سے متاثر ہونے کے جذبات کا کھلے عام اظہار کیا کرتا ...ایک تو لوگ مجھے میری پرانی تصویر دکھاتے اور دوسرا وہ قاسم علی شاہ صاحب کے بارے میں عجیب عجیب کومنٹس کرتے ...مجھے اپنے بارے میں سن کر تو کچھ نہ ہوتا لیکن اپنے استاد کے بارے میں سن کر دکھ ضرور ہوتا ...چند واقعات کے بعد مجھے یہ سمجھ آ گئی کہ کاشف ....تم تبدیل ہو رہے ہو یہ تمہارا مسلہ ہے ...لوگ اتنی جلدی کیسے تمہاری تبدیلی کو نوٹ کریں یا قبول کریں ..اسلئے تحمل سے چلو ...دوسرا یہ کہ شاہ صاحب سے تم متاثر ہو ...تمھارے استاد ہیں ..ضروری نہیں کہ ہر کوئی ان کو استاد مانے یا پھر ان سے متاثر ہو ....اسکے بعد میں نے اس چیز پر مکمل کنٹرول کر لیا ...



حضور والا بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ اندر سے بدل رہے ہیں ....آپکے خیال میں تبدیل آ رہی ہے تو خدارا اسکا اظہار کھلے عام مت کریں ...لوگوں کے ازہان میں آپکی پرانی تصویر ہی پڑی ہے ...وہ آپکو اسی طرح دیکھ رہے ہیں جیسے پہلے آپ ان پر طنز وغیرہ کیا کرتے تھے ....وہ آپکو تبدیلی کو نوٹ ہی نہیں کر پاتے ...اگر کر بھی لیں تو کبھی اسکا اظہار نہیں کریں گے ..بلکہ الٹا آپ پر طنز کریں گے ....یوں آپ انکی باتوں کو اپنے خیالات میں مکس کرکے خود تذبذب کا شکار ہو جائیں گے ..اور اپنے صحیح یا غلط ہونے کے لیے انہی لوگوں کی راۓ کے مختاج ہو جائیں گے جو یہ چاہتے ہی نہیں کہ آپ بہتر ہو ....دوسرا مقصد اس واقعہ کا یہ ہے کہ آپ جب کسی بڑے انسان (کسی بھی لحاظ سے ) کے بارے میں منفی گفتگو کرتے ہو و در اصل آپ نیچے ہوتے ہو اور وہ اوپر ہوتا ہے ....چونکہ آپ خود اپنی کوشش میں سست ہوتے ہیں اور کسی مقام پر نہیں ہوتے ...اور جو شحص کوئی مقام حاصل کر لیتا ہے ..وہ آپ سے اوپر ہو جاتا ہے ....اپنی آنا کی تسکین اور ذہنی طور پر اس انسان کو اپنے برابر کرنے کے لیے آپ فورا تنقید اور طنز کا سہارا لیتے ہیں ...یوں آپ وقتی طور پر خود کو تو مطمئن کر لیتے ہیں لیکن دوسرے انسان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہوتا ...بلکہ آپ اپنی توانائی کے بنڈل تنقید کی صورت میں اٹھا کر خیالی طور پر اسے منتقل کرتے ہیں ...اور یہ سلسلہ برقرار رہتا ہے ..اور ایک وقت آتا ہے جب آپ کسی بھی عظیم انسان کے سامنے جا کر بھی اس سے متاثر نہیں ہو پاتے ....
یاد رکھئے گا ...خیال کی تبدیلی کے لیے کسی بزرگ کی نگاہ چاہئیے یا پھر کسی عظیم انسان سے متاثر ہونا پڑتا ہے ....خود کی استادی کو کسی کی استادی کے نیچے رکھنا پڑتا ہے ...تب جا کر ہمارا اصل باہر آتا ہے ..الله پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو ...آمین 
تحریر:
کاشف شہزاد